خوازہ خیلہ،فوجی چھاؤنی کی مخالفت میں گرینڈ جرگہ سامنے آگیا
خوازخیلہ ( نما ئند ہ سوات پوسٹ) خوازہ خیلہ تحصیل مسجد میں قومی مسائل اور فوجی چھاؤنی کے قیام کے حوالے سے ایک گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا گیا۔جس میں سوات قومی جرگہ کے مشران خورشید کاکاجی، مختیار خان یوسفزئی،عبدالقہار خان،ناظمین رفیق الرحمان، رحیم اللہ خان، زیب سر خان، بہر دانوش خان، محبوب الرحمان اور عمائدین علاقہ ملک شیرین ذادہ، میاں گل سید، بہروز خان، مولانا سید قمر،محمد طاہر خان، سرداد خان، شمشیر علی خان، افسر علی خان، سید اکبر علی شاہ خان ایڈوکیٹ نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہہ ہمارے آباؤ اجداد کے ورثے سے ہمیں زمینیں ملی ہیں،جس پر ہم نے اپنے خاندان کی کفالت اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لئے باغات لگائے ہیں۔مذکورہ زمینوں پر مرکزی اور صوبائی حکومت نے فوجی چھاؤنی بنانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے ذریعے ہمیں اپنی ذاتی جائداد وں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جو سراسر ناانصافی اور ظلم و جبر کی انتہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سوات کی کشیدہ حالات کے دوران خوازہ خیلہ کے عوام پر امن رہیں جس کا ثبوت پاک آرمی کے ساتھ موجود ہے۔اگر خوامخوا فوجی چھاؤنی بنانے کی ضرورت ہے تو پھر شہری علاقوں سے دور پہاڑی اور کھلے علاقوں میں قائم کی جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خوازہ خیلہ کے عوام فوجی چھاؤنی کے قیام کی مخالفت نہیں کرتے ، لیکن خوازہ خیلہ کے اندر گنجان آباد علاقوں کے اندر فوجی چھاؤنی قائم کرنا مناسب نہیں۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف،وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، کور کمانڈر اور میجر جنرل سے ہمدردانہ اپیل کی ہے کہ خوازہ خیلہ میں فوجی چھاؤنی کے لئے زمینوں پر لگائی گئی سیکشن 4 کو ختم کرکے چھاونی کے لئے آبادی سے دور زمین مختص کی جائے۔






